صفر المظفر
• یکم صفر المظفر
۱)۔ شہادت جناب زید شہید
امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزندوں میں امام محمد باقر (ع) کے
بعد سب سے زیادہ نمایاں حیثیت جناب زید شہید کی تھی آپ
۸۰ھ میں پیدا
ہوئے ۔ ہشام ابن عبد الملک سے تنگ آکر یکم صفر
۱۲۲ ہجری کو چالیس ہزار
کوفیوں کو لیکر میدان میں نکل آئے ۔ موقع جنگ میں کوفیوں نے آپ کا ساتھ
چھوڑدیا ۔ غرض کی دوران جنگ میں آپ کے پیشانی پر ایک تیر لگا اور شہید
ہوگئے ۔
۲)۔ امام حسین علیہ السلام کا سرآج کے دن شام میں وارد ہوا
امام حسین علیہ السلام کا سرآج کے دن شام میں وارد ہوالہٰذا بنی امیہ
ملعونوں نے شام میں اس دن کو عید قرار دیا۔
۳)۔ اسیران کربلا کا شام میں ورود:
جب یزید ملعون کو یہ خبر ملی کہ اسیران کربلا دمشق کے نزدیک پہنچ چکے
ہیں تو اس ملعون نے یہ حکم صادر کیا:
۱۔ زرو جواہرات سے بنے ہوئے تخت و تاج حاضر کیا جائے۔
۲۔ شہر کے ہر صنف کے بزرگوں کی مدد سے سارے شہر کو آراستہ کیے جائیں۔
۳۔ سارے شہر والے زینتی کپڑے پہنیں اور خود کو آراستہ کریں۔
۴۔ سڑکوں اور گلیوں میں آنے جانے والے ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کریں۔
۵۔ جب پوری طرح سے آمادگی ہو جائے تو طبل اور باجوں کے ساتھ ان کے
استقبال کو جائیں۔
۶۔ صدا لگانے والے سارے شہر میں صدا لگائیں کہ یہ کٹے ہوئے سر ،عورتیں
،بچے جو شہر میں داخل ہو رہے ہیں یہ عراقی ہیں جو خلیفہ کے مخالف تھے ،
لہٰذا ابن زیاد نے ان کو قتل کر دیا ۔ پس جو لوگ خلیفہ کو دوست رکھتے
ہیں وہ لوگ خوشیاں منائیں۔
شامی ذلیلوں نے خوشی منانے میں کسی قسم کی کمی نہ چھوڑی ۔ لوگ ہر آنے
جانے والوں کو شراب پیش کرتے تھے ۔ گانے بجانے والیاں بلند آواز میں
گانے گا رہی تھیں لوگ جوق در جوق دروازہ ¿ کوفہ دمشق کی طرف جا رہے تھے
۔ جب ان ملعونوں نے ان نورانی اسیروں کو دیکھا تو ان کی شان میں ایسی
گستاخی کی ( معاذ اللہ) میں جرا ¿ت نہیں کر سکتا کہ ان گستاخیوں کو
تحریر کروں۔
۳)۔ جنگ صفین
• ۲ صفر المظفر
۱)۔اسیران کربلا کو یزید ملعون کی محفل میں حاضر کیا گیا۔
۲)۔شہادت زید بن علی بن الحسین
جناب زید ابن علی ابن الحسین کو
۲صفر ۱۲۱ھ کو کوفہ میں شہید کیا گیا۔
انھوں نے اول محرم ہی کو خروج کیا تھا ۔ان کے دفن کے بعد ، اسی روز یا
۱۹ربیع الاول کو ان کی قبر کھود کر ان کے جسم کو باہر نکال کر زمین پر
گھسیٹتے ہوئے لے گئے اور دار پر لٹکا دیا۔
• ۵ صفر المظفر
جناب رقیہ کی شہادت
• ۷ صفر المظفر
۱)۔ ایک قول کے مطابق امام حسن مجتبی(ع) کی شہادت
۲)۔ ولادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
• ۸ صفر المظفر
جناب سلمان فارسی کی وفات
جناب سلمان فارسی نے
۸ صفر ۳۶ ہجری کو دو سو پچاس یا ایک قول کے مطابق
تین سو پجاس سال کی عمر میں دارفانی سے دار ابدی کی جانب کوچ کیا۔ جناب
سلمان فارسی کو سلمان بن الاسلام ، سلمان پاک اور سلمان محمدی کے القاب
سے یاد کیاجاتا ہے اور اس جملہ” السلام علیک ای من خلط باھل البیت
الطاہرین“ سے یاد کیا گیا ہے ۔ یہ جملہ جناب سلمان فارسی کی زیارت کا
ہے۔
امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں : سلمان ان لوگوں میں ہیں جنھوں
نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے جنازہ پر نماز پڑھی ۔ اور اسی طرح
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : سلمان نے علم اول و آخر کو
درک کر لیا تھا ۔ وہ ایسی بلندی پر فائز تھے کہ کسی کو نصیب نہیں
ہوسکتی ۔وہ ہم اہلبیت میں ہیں۔جناب جبرئیل نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم سے فرمایا کہ : جس قدر سلمان بہشت کے اشتیاق میں ہیں اس سے
کہیں زیادہ بہشت سلمان کی مشتاق ہے۔
• ۹ صفر المظفر
۱)۔شہادت عمار یاسر و خذیمہ
• ۱۰ صفر المظفر
۱)جنگ نہر وان
۲)۔ جناب سکینہ کی وفات
• ۱۲ صفر المظفر
جنگ صفین میں حکمین
• ۱۳ صفر المظفر
ایک قول کے مطابق وفات جناب سلمان فارسی
• ۱۴ صفر المظفر
شہادت محمد ابن ابی بکر
• ۱۵ صفر المظفر
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا علیل ہونا
• ۱۶ صفر المظفر
وفات جناب اویس قرنی
• ۱۷ صفر المظفر
ایک قول کے مطابق شہادت امام علی رضا علیہ السلام
• ۲۰ صفر المظفر
۱)۔ اربعین سید الشہداءعلیہ السلام:
۲)۔ اول زائر امام حسین علیہ السلام جناب جابر کا کربلا میں وارد ہونا
۳)۔اسیران کربلا کا کربلا میں ورود
۴) ۔ امام مظلوم کا سر مبارک جسم اطہر سے ملحق ہونا
• ۲۳ صفر المظفر
بنی عباس کی حکومت کی شروعات
• ۲۵ صفر المظفر
حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قلم و داوات طلب کرنا
• ۲۶ صفر المظفر
جناب اسامہ کی سرداری میں لشکر اسلام کی آمادگی
• ۲۸ صفر المظفر
۱)۔شہادت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
۲)۔شہادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
۳)۔آغاز امامت امیر المومنین علیہ السلام
۴)۔غصب خلافت
• آخر صفر المظفر
قول مشہور کے مطابق شہادت امام علی رضا علیہ السلام
|
|