محرّم الحرام
• یکم محرم الحرم
۱)۔آغاز ایام عزاء
محمد و آل محمد (ص) کے حزن واندوہ کا پہلا دن ہے ۔ تمام انبیاء و
ملائکہ ،تمام شیعہ اور محبان اہل بیت علیہم السلام کے لئے غم اندوہ کا
دن ہے ،بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔ کیوں کہ ہر سال پہلی محرم سے
روزعاشور تک مظلوم کربلا امام حسین علیہ السلام پارہ پارہ پیراہن عرش و
زمین کے درمیان لٹکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے غم و اندوہ ساری دنیا میں
پھیل جاتا ہے۔ ( خصائص الزینبیہ،ص/۴۹)
۲)۔ آج جناب زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی۔
۳)۔ واقعہ شعب ابی طالب (ع)
مولوی شبلی صاحب نے لکھا ہے کہ قریش دیکھتے تھے کہ اس روک ٹوک پر بھی
اسلام کا دائرہ پھیلتا جا تا ہے اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا
جاتا ہے اس لئے اب یہ تدبیر سوچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اور آپ کے خاندان کو محصور کرکے تباہ کر دیا جائے چنانچہ تمام قبائل
نے ایک معاہدہ مرتب کیا کہ کوئی شخص خاندان بنی ہاشم سے نہ قرابت کرے
نہ ان کے ہاتھ خرید و فروخت کرے نہ ان سے ملے نہ ان کے پاس کھانے پینے
کا سامان جانے دے جب تک وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کے
لئے حوالے نہ کر دیں ۔ یہ معاہدہ منصور ابن عکرم نے لکھا اور در کعبہ
پر آویزاں کردیا گیا ۔ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان بنی ہاشم کے
ساتھ شعب ابو طالب میں پہاڑ کا ایک درہ تھا جو خاندان ہاشم کا موروثی
تھا پناہ گزیں ہئے تین سال تک بنی ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ
ایسا سخت گزرا کہ پتے کھا کھا کے بسر کرتے تھے ابن سعد کی روایت ہے کہ
بچے جب بھوک سے روتے تھے تو باہر آواز آتی تھی قریش سن سن کر خوش
ہوتے تھے ۔(سیرة النبی ،ج/۱ص/۱۸)
شعب ابی طالب میں حضرت ابوطالب نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے جو محبت بلکہ اولاد نثاری کی ہے اس کی نظیر دنیا کے کسی ملک
اور کسی عہد میں نہیں ملتی ۔ یہ واقعہ سونے کے حرفوں سے لکھنے کے قابل
ہے ۔ محرم ۷ئبعثت میں جناب ابوطالب (ع) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو چالیس آدمیوں کے ساتھ اس شعب میں لے گئے تھے اور تین سال تک
اس میں رہے ،سال میں دو دفعہ رجب اور ذی الحجہ میں بنی ہاشم شعب سے
باہر آئے اورخرید و فروخت کرکے پھر شعب میں چلے جاتے تھے ۔ اس قید نے
ان بے چاروں پر بڑی مصیبت ڈالی روحانی اور جسمانی اذیت کے علاوہ رزق کی
تنگی نے اور پریشان کر رکھا تھا ناتے رشتے دار جو مخفی طور پر کوئی چیز
بھیجتے اور کفار کو خبر ہو جاتی تو وہ اپنے ہم حشمیوں میں ذلیل اور
فضیحت کئے جاتے ۔ جناب ابو طالب پر ان تمام مصیبتوں سے زیادہ حضرت کی
حفاظت کی فکر تھی ۔
علامہ حلبی نے لکھا ہے :
” و کان ابو طالب فی کل لیلة یا٘مر رسول اللہ ان یاتی فراشہ و یفطجع بہ
فاذا قام الناس اقامہ امرا حد بنیہ او غیر ھم الی من اخوة او بنی عمہ
ان یفطجع مکانہ خوفا علیہ ان یفتالہ احد ممن یرید بہ السوع“
”حضرت ابو طالب (ع) یہ معمول بنا لیا تھا کہ ہررات حضرت رسول خداصلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے کہ میرے پاس میرے ہی فرش پر سو رہو پھر
جب سب لوگ سو جاتے تھے تو آپ حضرت کو اس جگہ سے ہٹا دیتے اور اپنے
بیٹوں یا حقیقی بھائیوں یا چچا زاد بھائیوں سے کسی کو حکم دیتے کہ رسول
خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر سو رہے اس خوف سے کہ شب کو کوئی
دشمن دھوکے سے حضرت کو قتل نہ کر دے“ ( سیرة حلبیہ ،ج/۱ص/۳۴۲)
قریش کے بائیکاٹ ختم ہونے کی وجہ
اس شعب سے نکلنے کی بھی جو صورت ہوئی وہ جناب ابو طالب (ع)کے کمال
ایمان کی دلیل ہے جب شعب میں تقریبا تین برس ہو گئے تو ایک روز حضرت
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب ابو طالب سے کہا: اے چچا
مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ عہد نامہ قریش کے وہ تمام الفاظ جو ظلم اور
قطع برادری پر مشتمل تھے کیڑوں نے کھا لئے اور اس میں سے صرف وہ ٹکڑا
باقی رہ گیا ہے جس پر خا کا نام لکھا ہوا تھا”و کان ابو طالب لا یسک فی
قولہ “ جناب ابو طالب (ع) کا یہ حال تھا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ
علیہ و آلہ و سلم جو خبر یا وحی بیان کرتے تھے اس میں ذرہ برابر شک
نہیں کرتے تھے یہ سنتے ہی اس پر بھی یقین کر لیا اور شعب سے نکل کر
قریش کے پاس گئے اور کہا : کہ جو تم نے عہد نامہ لکھا ہے اسے کیڑا کھا
گیا ہے اور خدا کے نام کے سوائے اس کا کوئی مضمون باقی نہیں رہا ۔
محمد (ص) نے مجھ سے ایسا بیان کیا ہے اس کا کاغذ کو منگا کر دیکھو اگر
میرے بھتیجے کی خبر صحیح ہو کہ تم سب ہم لوگوں پر ظلم و قطع رحم کر رہے
ہو اور اگر ان کی خبر جھوٹ نکلے تو ہم سب لوگ جان جائیں گے کہ تم لوگ
ہی حق پر ہو اور ہم لوگ باطل پر ہیں یہ سن کر سب کے سب جلدی گھڑے ہو
گئے اور اس عہد نامہ کو اتار لائے دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت رسول خدا
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو فرمایا ہے بالکل صحیح ہے ۔ ” وقویت
نفس ابی طالب واشتد صوتہ و قال قد تبین لکم انکم اولی ابا اظلم و
القطعیة فنکسوا روسئھم“ اب تو ابو طالب کا نفس خوب مضبوط ہو گیا ان کی
آواز میں بھی طاقت آگئی کہنے لگے اب تو تم لوگوں پر اچھی طرح واضح ہو
گیا کہ اس معاملہ میں تم ہی لوگ ظلم و ستم کرتے اورقطع رحمی کا ارتکاب
کر رہے ہو اس پر ان سب نے اپنے اپنے سر جھکالئے پھر اس عہد نامے کے توڑ
نے کو آمادہ ہو گئے ۔
غرض مرتے وقت تک جناب ابو طالب علیہ السلام نے حضرت رسول خدا صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کی بہترین خدمت کی بہترین خدمت کی تربیت اور حمایت کی
اور تمام قریش آپ کے دشمن ہو گئے مگر آپ نے اس کی ذرہ برابر پروا
نہین کی نہ رسول کا کبھی ساتھ چھوڑا۔
شعب سے نکلے ہوئے ابھی آپ کو آٹھ مہینے سے کچھ ہی دن زیادہ ہوئے ہوں
گے کہ جناب ابو طالب نے نصف ماہ شوال یا ذیقعدہ ۱۰ ء بعثت میں غالبا
۸۵سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
۴)۔ جنگ ذات الرقاع
یہ واقعہ ۴ ء ہجری کا ہے ، مدینہ منورہ کے اطراف میں جو کفار (قبیلہ
انمار ، ثعلبہ اور غطفان ) رہتے تھے وہ لوگ مدینہ کا محاصرہ کرنا چاہتے
تھے لیکن رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چار سو یا سات سو
افراد کے ساتھ مدینہ کے باہر تشریف لے گئے جہاں پر ان کفار سے جنگ ہوئی
، یہ جنگ تین دن تک ہوتی رہی آخر کار اسلام کو کامیابی حاصل ہوئی۔ایک
قول کی مطابق یہ جنگ ماہ جمادی الاول ۴ ھء میں دشمن مدینہ پر حملہ کرنا
چاہتا ھتا لہٰذا آنحضرت (ص) نے اصحاب کو لیکر ان کی پیش قدمی کو روکنے
کے لئے آگے بڑھے لیکن وہ سامنے نہ آئے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔
۵)۔اسلام میں زکات اصول کرنے کی ابتداء۔
۶)۔ یزید کے خلاف اہل مدینہ کا قیام۔
• ۲/ محرم الحرام
امام حسین علیہ السلام سر زمین کربلا پر وارد ہوئے۔
• ۳/محرم الحرام
۱)۔ امام حسین علیہ السلام کا اہل کوفہ کے لئے نامہ لکھنا۔
۲)۔ ابن سعد ملعون کربلا میں وارد ہوا۔
آج کے دن ابن سعد ملعون اپنی چھ ہزار یا نو ہزار فوج کے ساتھ امام
حسین علیہ السلام کے قتل کے لئے کربلا میں وارد ہوا ۔ ایک قول کے مطابق
چار محرم الحرام کو وارد کربلا ہوا۔
• ۴/محرم الحرام
قاضی شریح ملعون نے امام حسین علیہ السلام کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔
• ۶/ محرم الحرام
۱) ۔تیس ہزار اشقیا امام حسین علیہ السلام کے قتل کے لئے کربلا میں جمع
ہو چکے تھے۔
۲)۔ نہر فرات کا محاصرہ۔
• ۷/ محرم الحرام
امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا گیا۔
• ۸/ محرم الحرام
آج کے دن خیام حسینی میں پانی ختم ہو چکا تھا۔
• ۹/ محرم الحرام
۱)۔ اس تاریخ کو تاسوعا کہتے ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام نے ابن سعد ملعون سے آج کی شب عبادت خدا کے لئے
مہلت طلب کی ۔ بلکہ ان لوگوں کو مہلت دی تاکہ راہ مستقیم اختیار کر لیں
اور بارگاہ ایزدی میں استغفار کریں اپنے اعمال پر جیسا کہ جناب حر اپنے
بیٹے ، بھائی اور غلام کے ساتھ خدمت امام میں تشریف لائے اور اپنی
غلطیوں کی معافی مانگی، اور امام حسین علیہ السلام کی طرف سے سب سے
پہلے شہید ہوئے۔
۲)۔ خیام حسینی علیہ السلام کا محاصرہ۔
۳)۔ شمر ملعون کا فرزندان ام البنین کے لئے امان نامہ بھیجنا ۔
• ۱۰/ محرم الحرام
۱)۔ کربلا کے میدان میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی
شہادت
۲) ۔ خیام حسینی میں یزیدی فوجیوں کا آگ لگانا
۳)۔ مخدرات اہلبیت علیہم السلام کے سروں سے مقنع و چادر چھیننا
• ۱۱/ محرم الحرام
۱)۔ وفات حضرت آدم علیہ السلام:
۲)۔اسیری اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و کربلا سے کوفہ کی
جانب روانگی
۳)۔ ابن زیادملعون کا لوگوں کو جمع کرنا اور جشن منانا
• ۱۲/ محرم الحرام
۱)۔دفن شہدائے کربلا
۲)۔ اسیران کربلا کا کوفہ میں وارد ہونا
۳)۔ روزشہادت امام زین العابدین علیہ السلام :
ایک قول کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام ۱۲/ محرم ۹۴ ء ہجری ۵۷
سال کی عمر میں شہید کئے گئے ۔لیکن مشہور یہ ہے کہ ۲۵/ محرم کو شہید
کئے گئے۔
• ۱۳/ محرم الحرام
۱)۔ اسیران کربلا کا زندان کوفہ میں زندانی ہونا
۲)۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر مدینہ و شام میں
۳)۔شہادت عبد اللہ ابن عفیف
• ۱۵/ محرم الحرام
شہدائے کربلا کے کٹے ہوئے سروں کا شام کی طرف روانہ ہونا
• ۱۷/ محرم الحرام
اصحاب فیل پر عذاب خدا نازل ہوا
• ۱۹/ محرم الحرام
اسیران کربلا
کی شام کی طرف روانگی
• ۲۰/ محرم الحرام
۱)۔ جناب بلال موٴذن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات
۲)۔کربلا میں جناب جون کے بدن کا دفن ہونا
• ۲۵/ محرم الحرام
امام زین العابدین(ع) کی شہادت:
امام زین العابدین علیہ السلام نے ۶۱ ئھ میں عاشور کے دن امامت کی عظیم
ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر سنبھال لیں اور ۹۴ء ہجری میں آپ کو زہر سے
شہید کر دیا گیا ۔اس پورے عرصے میں آپ (ع) اسی مقصد کی تکمیل کے لئے
کوشاں رہے اب آپ مذکورہ نقطہ نگاہ کی روشنی میں حضرت(ع) کی جزئیات
زندگی کا جائزہ لیجئے کہ آپ (ع) اس ذیل میں کن مراحل سے گزرتے رہے کیا
طریقہ کار اپنائے اور پھر کس حد تک کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔
وہ تمام ارشادات جو آپ (ع) کے دہن مبارک سے جاری ہوئے ، وہ اعمال جو
آپ(ع) نے انجام دیئے وہ دعائیں جو لب مبارک تک آئیں وہ مناجاتیں اور
راز و نیاز کی باتیں جو آج صحیفہ کاملہ کی شکل میں موجود ہےں ان سب کی
امام (ع) کے اسی بنیادی موقف کی روشنی میں تفسیر و تعبیر کی جانی چاہئے
چنانچہ اس پور دور امامت میں مختلف موقعوں پر حضرت (ع) کے موقف اور
فیصلوں کو بھی اسی عنوان سے دیکھنا چاہئے مثال کے طور پر ------------
:
۱۔ اسیری کے دوران کوفہ میں عبید اللہ ابن زیاد اور پھر شام میں یزید
پلید کے مقابلہ میں آپ (ع) کا موقف جو شجاعت و فداکاری سے بھرا ہوا
تھا ۔
۲۔ مسرف بن عقبہ کے مقابلہ میں -- جس کو یزید نے اپنی حکومت کے تیسرے
سال مدینہ رسول (ص) کی تباہی اور اموال مسلمین کی غارت گری پر مامور
کیا تھا -- امام (ع) کا موقف نہایت ہی نرم تھا ۔
۳۔ عبد الملک بن مروان جس کو خلفائے بنو امیہ میں طاقتور ترین اور
چالاک ترین خلیفہ شمار کیا جاتا ہے ، اسکے مقابلہ میں امام (ع) کا موقف
کبھی تو بہت ہی سخت اور کبھی بہت ہی نرم نظر آتا ہے ۔۔۔
اسی طرح ۔۔۔
۴۔ عمر بن عبد العزیز کے ساتھ آپ کا برتاؤ
۵۔ اپنے اصحاب اور رفقاء کے ساتھ آپ (ع) کا سلوک اور دوستانہ نصیحتیں
اور
۶۔ ظالم و جابر حکومت اور اس کے عملے سے وابستہ درباری علماء کے ساتھ
امام علیہ السلام کا رویہ؟
ان تمام موقفوں اور اقدامات کا بڑی باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کرنے کی
ضرورت ہے میں تو اسی نتیجہ پر بہنچا ہوں کہ اگر اس بنیادی موقف کو پیش
نظر رکھتے ہوئے تمام جزئیات و حوادث کا جائزہ لیا جائے تو بڑے ہی معنی
خیز حقائق سامنے آئیں گے ۔چنانچہ اگر اسی زاویہ سے امام کی حیات طیبہ
کا مطالعہ کریں تو عظیم ہستی ایک ایسا انسان نظر آئے گی جو اس روئے
زمین پر خدا وند وحدہ لا شریک کی حکومت قائم کرنے اور اسلام کو اس کی
اصل شکل میں نافذ کرنے کو ہی اپنا مقدس مقصد سمجھتے ہوئے اپنی تمام
ترکوشش و کاوش بروئے کار لاتا رہا ہے اور جس نے پختہ ترین اور کار آمد
ترین کا رگردگی سے بہرہ مند ہوکر نہ صرف یہ کہ اسلامی قافلہ کو اس پر
اگندگی اور پریشاں حالی سے نجات دلائی ہے جو واقعہ عاشور کے بعد دنیا
ئے اسلام پر مسلط ہو چکی تھی بلکہ قابل دید حد تک اس کو آگے بھی
بڑھایا ہے
امام زین العابدین علیہ السلام اپنے ۳۴برس کے طویل دورامامت میں ،ارباب
حکومت کے ساتھ کھل کر کبھی کوئی تعرض اور مخالفت نہ کی پھر بھی اپنی
امامت کے اس عظیم دسترخوان کو وسیع سے وسیع تر کرتے رہے اور تعلیم و
تربیت کی ایمانی غذاؤں سے بہت سے مومن و مخلص افراد پیدا کئے دعوت
اہلبیت (ع) کو وسعت حاصل ہوتی رہی اور یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے
اموی سرکار حضرت (ع) کے سلسلے میں بد بین و فکر مند رہنے لگی یہاں تک
کہ حضرت (ع) کی راہ میں رکاوٹ اور روک ٹوک بھی کی گئی اور کم از کم ایک
مرتبہ حضرت (ع) کو طوق و زنجیر میں کس کر مدینہ سے شام بھی لے جایا گیا
۔حادثہٴ کربلا میں امام زین العابدین علیہ السلام کا طوق و زنجیر میں
جگڑ کر شام لے جایا جانا مشہور ہے لیکن کربلا کی اسیری میں اگر حضرت
(ع) کا گلو ئے مبارک نہ بھی جگڑ ا گیا ہو تو بھی اس موقع پر یہ بات
یقینی ہے یعنی حضرت (ع) کو مدینہ سے اونٹ پر سوار کیا گیا اور طوق و
زنجیر میں جگڑ کر شام لے جایا گیا ۔ اس کے علاوہ بھی کئی دوسرے موارد
پیش آئے جب آپ (ع) کو مخالفین کی طرف سے آزارو شکنجے کا سامنا کرنا
پڑا اور آخر کار ولید بن عبد الملک (ملعون خدااس کو واصل جہنم کرے )
کے دور خلافت ۹۵ھء میں خلافت بنی امیہ کے سرکار ی کارگزاروں کے ہاتھوں
زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔
• ۲۶/ محرم الحرام
علی ابن حسن مثلث کی شہادت
• ۲۸/ محرم الحرام
۱)۔ وفات جناب حذیفہ یمانی
۲)۔ امام جواد علیہ السلام کو بغداد کی جانب جلا وطن کیا جانا
۳) ۔ اسیران کربلا کا بعلبک میں ورود
• ۲۹/ محرم الحرام
اسیران کربلا کا شام میں ورود |
|