سورہ ابراہیم
 


عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
۱۔ الف لام را،یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے اذن سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں، غالب آنے والے قابل ستائش اللہ کے راستے کی طرف۔ ٭
۲۔ جس اللہ کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات ہیںاور کافروں کے لیے عذاب شدید کی تباہی ہے۔
۳۔ جو آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی سے محبت کرتے ہیں اور راہ خدا سے روکتے ہیں اور اس میں انحراف لاناچاہتے ہیں یہ لوگ گمراہی میں دور تک چلے گئے ہیں۔
۴۔ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی زبان میں تاکہ وہ انہیں وضاحت سے بات سمجھا سکے پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتاہے ہدایت دیتا ہے اور وہی بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔٭
۵۔ اور بتحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا(اور حکم دیا)کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ اور انہیں ایام خدا یاد دلاؤ، ہر صبر وشکر کرنے والے کے لیے یقینا ان میں نشانیاں ہیں۔٭
۶۔ اور (یاد کیجیے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اللہ نے تمہیں جس نعمت سے نوازا ہے اسے یاد کرو جب اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات بخشی، وہ تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے رب کہ طرف سے بڑا امتحان تھا۔
۷۔ اور (اے مسلمانو! یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے خبردار کیا کہ اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب یقینا سخت ہے۔٭
۸۔ اور موسیٰ نے کہا: اگر تم اور زمین میں بسنے والے سب ناشکری کریں تو بھی اللہ یقینا بے نیاز، لائق حمد ہے۔
۹۔ کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیںـ(مثلا) نوح، عاد اور ثمود کی قوم اور جو ان کے بعدآئے جن کا علم صرف اللہ کے پاس ہے؟ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کرآئے توا نہوں نے اپنے ہاتھ ان کے منہ پر رکھ دیے اور کہنے لگے: ہم تو اس رسالت کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس میں ہم شبہ انگیز شک میں ہیںـ۔
۱۰۔ ان کے رسول نے کہا: کیا (تمہیں) اس اللہ کے بارے میںشک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیںاس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ تمہارے گناہ بخش دے اور ایک معین مدت تک تمہیں مہلت دے، وہ کہنے لگے: تم تو ہم جیسے بشر ہو تم ہمیں ان معبودوں سے روکنا چاہتے ہو جن کی ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے، پس اگر کوئی کھلی دلیل ہے تو ہمارے پاس لے آؤ۔٭
۱۱۔ ان کے رسولوں نے ان سے کہا: بےشک ہم تم جیسے بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار میں نہیںکہ ہم تمہارے سامنے کوئی دلیل (معجزہ) اذن خدا کے بغیر پیش کریں اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔٭
۱۲۔ اور ہم اللہ پر توکل کیوں نہ کریں جب کہ اس نے ہمارے راستے ہمیں دکھا دیے ہیں، (منکرو) جو اذیتیںتم ہمیں دے رہے ہو اس پر ہم ضرور صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔
۱۳۔ اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: ہم تمہیں اپنی سرزمین سے ضرور نکال دیں گے یا بہرصور ت تمہیںہمارے دین میں واپس آنا ہوگا، اس وقت ان کے رب نے ان پر وحي کی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے۔ ٭
۱۴۔ اور ان کے بعد اس سرزمین میںہم ضرور تمہیں آباد کریں گے، یہ (خوشخبری) اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے (کے دن) سے ڈرتا ہو او ر اسے میرے وعدہ عذاب کا خوف بھی ہو۔
۱۵۔ اور انبیاء نے فتح و نصرت مانگی تو ہر سرکش دشمن نامراد ہو کر رہ گیا ۔
۱۶۔ اس کے بعد جہنم ہے اور وہاں اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔
۱۷۔ جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر پیے گا مگر وہ اسے نہایت ناگوار گزرے گا، اسے ہر طرف سے موت آئے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور اس کے پیچھے (مزید) سنگین عذاب ہو گا ۔
۱۸۔ جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے آندھی کے دن تیز ہوا نے اڑا دیا ہو، وہ اپنے اعمال کا کچھ بھی (پھل) حاصل نہ کرسکیںگے، یہی توبہت گہری گمراہی ہے۔
۱۹۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیاہے ؟ اگروہ چاہے تو وہ تمہیںتباہ کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق لے آئے ۔٭
۲۰۔ اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
۲۱۔ اور سب اللہ کے سامنے پیش ہوںگے تو کمزور لوگ ان لوگوں سے جو (دنیا میں) بڑے بنتے تھے کہیں گے: ہم تمہارے تابع تھے تو کیا تم اللہ کے عذا ب کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو؟ وہ کہیں گے: اگر اللہ نے ہمارے لیے کوئی راستہ چھوڑ دیا ہوتا تو ہم تمہیں بھی بتا دیتے، ہمارے لیے یکساں ہے کہ ہم فریاد کریں یا صبر کریں۔، ہمارے لیے فریاد کا کوئی راستہ نہیں۔٭
۲۲۔ اور (قیامت کے دن) جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہ اٹھے گا: اللہ نے تمہارے ساتھ یقینا سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر وعدہ خلافی کی اور میرا تم پرکوئی زور نہیں چلتا تھا۔ مگر یہ کہ میں نے تمہیں صرف دعوت دی اور تم نے میرا کہنا مان لیا ۔ پس اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود کو ملامت کرو (آج) نہ تو میں تمہارے فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو، پہلے تم مجھے (اللہ کا شریک) بناتے تھے میں (اب) یقینا اس سے بیزار ہوں، ظالموں کے لیے تو یقینا دردناک عذاب ہے۔٭
۲۳۔ اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے وہ ان جنتوں میںداخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی وہ اپنے رب کی اجازت سے ہمیشہ ان میں رہیں گے، وہاں (آپس میں) ان کی تحیت سلام ہو گی۔ ٭
۲۴۔ کیا آپ نے نہیںدیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال پیش کی ہے کہ کلمہ طیبہ شجرہ طیبہ کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیںـ؟٭
۲۵۔ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔٭
۲۶۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا گیا ہواور اس کے لےے کوئی ثبات نہ ہو ۔٭
۲۷۔اللہ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی قول ثابت پر قائم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ اپنی مشیت کے مطابق عمل کرتا ہے۔٭
۲۸۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھرمیں اتار دیا؟
۲۹۔ وہ جہنم ہے جس میں وہ جھلس جائیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے ۔
۳۰۔ اور انہوں نے اللہ کے لیے کچھ ہمسر بنا لیے تاکہ راہ خدا سے (لوگوں کو) گمراہ کریں، ان سے کہدیجئے: (کچھ دن) لطف اٹھا لو آخر کار تمہارا ٹھکانا آتش ہے۔
۳۱۔ میرے ایمان والے بندوں سے کہ دیجئے:نماز قائم کریںاور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ طور پر خرچ کریں، اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سودا ہو گااور نہ دوستی کام آئے گی۔
۳۲۔ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے تمہارے روزی کے لیے پھل پیدا کیے اور کشتیوں کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے سمندر میںچلے اور دریاؤں کو بھی تمہارے لیے مسخر کیا۔
۳۳۔ اور اسی نے ہمیشہ چلتے رہنے والے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا اور رات اور دن کو بھی تمہارے لیے مسخر بنایا۔
۳۴۔ اور اسی نے تمہیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کر سکو گے، انسان یقینا بڑا ہی بے انصاف، ناشکرا ہے۔٭
۳۵۔ اور (و ہ وقت یاد کیجیے) جب ابراہیم نے دعا کی: پروردگارا! اس شہر کو پر امن بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا ۔
۳۶۔ پروردگارا! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے پس جو شخص میری پیروی کرے وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو یقینا بڑا معاف کرنے والا، مہربان ہے۔
۳۷۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد میںسے بعض کو تیرے محترم گھر کے نزدیک ایک بنجر وادی میں بسایا، ہمارے پروردگارا! تاکہ یہ نماز قائم کریں لہذا تو کچھ لوگو ں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ یہ شکرگزار بنیں۔٭
۳۸۔ ہمارے رب ! جو کچھ ہم پوشیدہ رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں تواسے جانتا ہے، اللہ سے کوئی چیز نہ تو زمین میں چھپ سکتی ہے اور نہ آسمان میں۔
۳۹۔ ثنائے کامل ہے اس اللہ کے لیے جس نے عالم پیری میں مجھے اسماعیل اور اسحق عنایت کیے، میرا رب تو یقینا دعاؤں کا سننے والا ہے۔٭
۴۰۔ پروردگار مجھے قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، ہمارے پروردگار میری دعا قبول فرما۔٭
۴۱۔ ہمارے رب مجھے اور میرے والدین اور ایمان والوں کو بروز حساب مغفرت سے نواز۔
۴۲۔ اور ظالم جو کچھ کر رہے ہیں آپ اس سے اللہ کو غافل تصور نہ کریں، اللہ نے بے شک انہیں اس دن تک مہلت دے رکھی ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
۴۳۔ وہ سر اٹھائے دوڑرہے ہوںگے، ان کی نگاہیں خود ان کی طرف بھی لوٹ نہیں رہی ہوںگی اور ان کے دل (خوف کی وجہ) کھوکھلے ہوچکے ہو ں گے۔٭
۴۴۔ اور لوگوں کو اس دن کے بارے میں تنبیہ کیجیے جس دن ان پر عذاب آئے گا تو ظالم لوگ کہیں گے: ہمارے رب ہمیں تھوڑی مدت کے لیے ڈھیل دے دے۔ اب ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی اتباع کریں گے، (انہیں جواب ملے گا) کیا اس سے پہلے تم قسمیں نہیں کھاتے تھے کہ تمہارے لیے کسی قسم کا زوال و فنا نہیں ہے؟٭
۴۵۔ حالانکہ تم ان لوگوں کے گھروں میں آباد تھے جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے اور تم پر یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا اور تمہارے لیے مثالیں بھی بیان کی تھیں۔٭
۴۶۔ اور انہوںنے اپنی مکاریاں کیں اور ان کی مکاریاں اللہ کے سامنے تھیں اگرچہ ان کی مکاریاں ایسی تھیں کہ جن سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔٭
۴۷۔ پس آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، اللہ یقینا بڑا غالب آنے والا، انتقام لینے والا ہے۔
۴۸۔ یہ (انتقام) اس دن ہوگا جب یہ زمین کسی اور زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔٭
۴۹۔ اس دن آپ مجرموں کو ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھیں گے۔٭
۵۰۔ ان کے لباس گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی ہو گی۔٭
۵۱۔ تاکہ اللہ ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا دے، اللہ یقینا بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔
۵۲۔ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کی تنبیہ کی جائے اور وہ جان لیں کہ معبود تو بس وہ ایک ہی ہے نیز عقل والے نصیحت حاصل کریں۔٭