رہبر انقلاب اسلامی
حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی
کا حجاج بیت اللہ الحرام کے نام

پیغام حج۔ ذی الحجہ
۱۴۲۶ ھ
قال اللہ تعالیٰ:
فَاِذَا قَضَیتُم مَنَاسِکَکُم فَاذکُرُوا اللّٰہَ کَذِکرِکُم اٰبآئَ کُم ا َو ا
َشَدَّ ذِکراً(بقرہ ∙∙۲)
”پھر جب تم ارکان حج بجا لا چکو تو تم اس طرح ذکر خدا کرو جس طرح تم
اپنے باپ داداو ¿ں کا ذکر کرتے ہوبلکہ اس سے بڑھ کر “
مسلمان بھائیو اور بہنو!
حج کے ایام ،امید اورخوشخبری کے ایام ہیں ایک طرف خانہ ¿ توحید کے
مسافروں کے درمیان دوستی اور ہمبستگی کے ذریعہ دلوں میں امید پیدا کرتے
ہیں اور دوسری جانب ذکر الٰہی کی برکت سے حاجیوں کی جان و دل میں طراوت
و رحمت کے دروازوں کے کھلنے کی خوشخبری دیتے ہیں ۔
حج کے رمز و راز سے بھرے ہوئے اعمال ومناسک انجام دینے کے بعد،جو خود
ذکر الٰہی اور خشوع سے مالامال ہیں ،حاجیوں کو ایک بار پھر ذکر الٰہی
کی دعوت دی جاتی ہے ۔
یہ تاکید اس وجہ سے ہے کہ اللہ کی یاد افسردہ دلوں کو نورانی کرتی ہے
اور ان میں ایمان اور امید کی جوت جگاتی ہے ۔
حج کی معنویت یہی اللہ کا ذکر ہے جو روح کی مانند حج کے ایک ایک عمل
میں سموئی ہوئی ہے ، یہ مبارک سر چشمہ دوران حج کے بعد بھی اسی طرح
ابلتا رہے اور یہ فوائد اسی طرح باقی رہیں ۔
آدمی زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنی غفلت کا شکار ہے۔ ہر جگہ غفلت ہے
۔اخلاقی بربادی ،فکری کجروی اور روحی انحطاط بھی ہے ۔یہی نقصانات
انسانوں کی شخصیت کو مضمحل اور پست کرنے کے علاوہ قوموں ،ملتوں اور
تہذیبوں کی تباہی کا باعث ہوتے ہیں ۔
حج ،غفلت کو دور کرنے کی ایک بہترین اسلامی تدبیرہے ۔ حج کے مراسم کا
بین الاقوامی ہونا گویا اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ اسلامی امت ہر
مسلمان کے انفرادی وظیفہ کے علاوہ اپنی اجتماعی شخصیت میں بھی غفلت سے
نجات حاصل کرنے کا فریضہ رکھتی ہے ۔
حج کے عبادات اورمناسک اس بات کا موقع دیتے ہیں کہ ہم اپنی غفلت زدہ
اسیری اور وابستگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی لذت پسندی ،ہواو ہوس اورتن
آسانی کو وقتی طور سے ترک کردیں۔ احرام ، طواف،نماز،سعی اور وقوف ہمیں
اللہ کی یاد سے سرشار اور بارگاہ الٰہی سے نزدیک کرتے ہیں اور اللہ کی
محبت کی لذت سے ہماری روح وجان کو آشنا کرتے ہیں۔
دوسری جانب اس بی نظیر اجتماع کا شکوہ وجلال ،ہمیں عظیم اسلامی امت کی
واقعیت سے آگاہ کرتا ہے، جس کا دائرہ قوموں، نسلوں، رنگوں اور زبانوں
سے بھی وسیع ہے ۔ یہ باہم مربوط اور ہماہنگ اجتماع ، یہ تمام زبانیں جو
سب کے سب ایک ہی بات کہہ رہی ہیں ،یہ جسم اور دل جو ایک ہی قبلہ کی طرف
رخ کررہے ہیں ،یے انسان جو دسیوں ملکوں اور قوموں کی نمائندگی کررہے
ہیں ،یہ سب ایک ہی اکائی سے متعلق اور ایک عظیم مجموعہ ہیں اور وہ
اسلامی امت ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی امت اپنی غفلت کے ایک طولانی دور سے گزررہی ہے ۔
آج کی علمی و عملی پسماندگی اور سیاست ، صنعت اور اقتصاد کے میدانوں میں
پیچھے رہ جانا انہی غفلتوں کا نتیجہ ہے اس وقت جو حیرت انگیز تبدیلی
دنیا میں پیدا ہوئی ہے یا پیدا ہورہی ہے اس میں اسلامی امت کے لئے لازم
ہے کہ وہ اپنی گزشتہ غفلتوں کا جبران کرے اور خوش قسمتی سے موجودہ دور
میں پیدا ہونے والے بعض آثار اس جبران کے آغاز کی نوید دے رہے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کرناچاہئے کہ استکباری دنیا مسلمانوں کی بیداری،
اسلامی اتحاداور علم وسیاست اور ایجادات کے میدانوں میں ہماری قوموں کی
ترقی کودنیا پر اپنے تسلط اور غلبہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شمار
کرتی ہے اور پوری طاقت سے اس سے ٹکر لے رہی ہے ۔ پرانے استعمار اور نئی
استعماری روش کا تجربہ ہم مسلمان قوموں کے سامنے ہے ۔ آج جب کہ نئے
استعمار کے
پھیلاؤ کا دور ہے ہمیں چاہئے کہ اس تجربہ سے سبق لیں اور
ایک بار پھر طولانی عرصہ کے لئے دشمن کو اپنی تقدیرپر مسلط نہ ہونے دیں
۔
اُس تلخ اور سیاہ دور میں مغرب کی مسلط طاقتوں نے اپنے تمام تہذیبی ،اقتصادی،سیاسی
اورفوجی حربے اسلامی ملکوں اور قوموں کوکمزور بنانے کے لئے استعمال کئے
اور تفرقہ ، فقروتنگدستی اور جہالت کو ان پر تھوپ دیا ۔ہمارے سیاست
دانوںکی غفلت ، سستی اور نفس کی کمزوری نیز ہمارے بہت سے تہذیبی اور
تمدنی میدان کے چنیدہ افراد کااپنی ذمہ داریو ں کو اٹھانے سے
گریزدشمنوں کے لئے مددگارہوا ،جس کا نتیجہ ہمارے سرمایوں کی لوٹ ،ہماری
تحقیرحتی ہماری شخصیت اور وجود سے انکار اور ہمارے استقلال و آزادی کی
نابودی کی شکل میں برآمد ہوا۔ مسلمان قومیں روز بروز کمزور ہوتی گئیں
اور لوٹ مار نیز غلبہ حاصل کرنے والے روز بروز طاقتور ہوتے گئے ۔
آج جب کہ مجاہدوں کی فداکاری اور رہنماو ¿ں کی شجاعت و صداقت کی برکت
سے اسلامی دنیا کے بعض علاقوں میں اسلامی بیداری کی لہر پھیل رہی ہے اور
بہت سے اسلامی ملکوں میں جوان ،برگزیدہ شخصیتیں اور عوام میدان میں
آگئے ہیں اور تسلط پسند غداروں کا چہرہ بہت سے مسلمان حاکمون اور سیاست
دانوں کی نظر میں بے نقاب ہو چکا ہے تو استکبار ی حکام اسلامی دنیا پر
اپنے غلبہ اور تسلط کو برقرار اور مضبوط کرنے کے لئے نئی ترکیبیں سوچ
رہے ہیں ۔ جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق انہی چالوں اور ہتکنڈوں میں سے
ہیں ۔
آج شیطان اکبر نے جو کہ خود انسان کے خلاف شرارت اورقساوت کا مجسمہ ہے
،انسانی حقوق کی طرفداری کا پرچم بلند کر رکھا ہے اور مشرق وسطیٰ کی
قوموں کو جمہوریت کی دعوت دے رہاہے ۔ان ملکوں میں امریکہ کی منظور نظر
جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ سازش ،رشوت اورگمراہ کن پروپیگنڈوں کے ذریعہ
بظاہرعوامی انتخابات اور حقیقت میں امریکہ کے مطیع اور رام شدہ افراد
حکومت میں آئیں اور استکبار کے گھناو ¿نے مقاصد کی تکمیل کرنے والے
امریکہ کے نوکر برسرکارہوں۔
ان کے مقاصد میں سب سے بالاتر اسلام پسندی کی لہر کو روکنا اور اسلامی
قدروں کو دوبارہ ختم کرنا ہے امریکہ اور دوسری تسلط پسند طاقتوں کے
تمام تبلیغاتی و سیاسی وسائل حرکت میں ہیں تا کہ اسلامی بیداری کو دور
سے دورتر کریں اور اگر ممکن ہو تو اسے کچل کر رکھ دیں۔ مسلمان قوموں کو
چاہئے کہ آج پوری طرح ہوشیار اور بیدار رہیں۔علما ،دینی
رہنماو ¿ں، روشن خیال اور دانشگاہی افراد ، صاحبان قلم،شعرا،اہل فن،جوان اور
برگزیدہ شخصیتیں ان سب کو پوری اور مناسب ہوشیاری کے ساتھ یہ اقدام
کرنا چاہئے کہ دنیا کا خون چوسنے والا امریکہ اسلامی دنیا پر اپنے
استعماری تسلط کا ایک نیا دور شروع نہ کرنے پائے ۔
ایسے تسلط پسندوں کی جانب سے جمہوریت کا نعرہ قابل قبول نہیں ہے جو
برسوں سے ایشیا، افریقہ اور امریکہ کی تانا شاہی حکومتوں کا دفاع کرنے
والے رہے ہیں ۔ دہشتگردی اور ٹرورزم کے خلاف جنگ کا ادعا ان لوگوں کی
جانب سے نفرت انگیز ہے جو خود صہیونی ٹرورزم کو رائج کرنے والے ہیں اور
عراق و افغانستان میں انتہائی خونریز دہشتگردیوں اور ٹرورزم کے مرتکب
ہوئے ہیں۔ اُن شیطانوں کی جانب سے شہری حقوق کی طرفداری کا ادعا قابل
لعنت وباعث نفرت فریب ہے ،جنھوں نے فلسطین کے مظلوم عوام پر شارون جیسے
خونخوار ٹرورسٹ کے مظالم کی ہمیشہ تعریف اور تشویق کی ہے۔ گوانتانامو ،
ابوغریب اور یورپ کی خفیہ جیلوں میں مظالم کا ارتکاب کرنے والے نیز ملت
عراق وفلسطین کی تحقیر کرنے والے اور ایسے گروہوں کی پرورش اور تربیت
کرنے والے جو اسلام کے نام پر عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کا خون
بہانا مباح سمجھتے ہیں ،یہ حق نہیں رکھتے کہ انسانی حقوق کے سلسلہ میں
کوئی بات کریں ۔
امریکی اور برطانوی حکومتیں جو ملزموں کو اذیتیں دینے حتی سڑکوں پر ان
کا خون بہانے کو جائز جانتے ہیں اور اپنے شہریوں کی ٹیلیفونی گفتگو کو
عدالت کے حکم کے بغیر سننا جائز سمجھتے ہیں انھیں کسی بھی طرح یہ حق
حاصل نہیں ہے کہ خود کو شہری حقوق کا طرفدار بتائیں ۔جو حکومتیں ایٹمی
اور کیمیاوی اسلحے بناکر اور ان کا استعمال کرکے موجودہ تاریخ میں اپنے
چہرے سیاہ کرچکی ہیں انھیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ خود کو ایٹمی صنعت کے
پھیلاو ¿ کو روکنے والا بتائیں ۔
مسلمان بھائیو اور بہنو!
آج دنیا اور خاص طور سے عالم اسلام بڑے حساس دور سے گزر رہاہے ایک طرف
پوری دنیائے اسلام میں بیداری کی لہر پھیل رہی ہے اور دوسری طرف امریکہ
اور دوسرے مستکبروں کے غدار چہروں سے دھوکہ اور ریاکاری کی نقاب اترچکی
ہے ۔تیسری جانب عالم اسلام کے مختلف حصوں میں اپنی شخصیت و اقتدار کو
دوبارہ حاصل کرنے کا آغاز ہوچکا ہے اور ایران جیسے با عظمت اسلامی ملک
میں علم اورملکی سطح پرمستقل ٹیکنالوجی کے نئے درخت ثمر دے رہے ہیں اور
وہ خود اعتمادی جس نے سیاسی و اجتماعی ماحول کو دگر گون کررکھاتھا علم
اور تعمیر نو تک پہنچ گئی ہے ساتھ ہی دشمنوں کی سیاسی اور فوجی صفوں
میں کمزوری اور انحطاط کی دراڑیں پڑرہی ہیں ۔آج ایک طرف عراق اور دوسری
طرف فلسطین ولبنان امریکہ اور صہیونزم کی کمزوری و ناتوانی کا منظر پیش
کررہے ہیں ۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی سیاست اپنے ابتدائی قدموں میں ہی
زبردست رکاوٹوں سے روبرو ہوئی ہے اور اس سیاست کی ناکامی ان کے خلاف
حربہ کی شکل میں تبدیل ہوگئی ہے ۔
آج وہ دن ہے کہ مسلمان قومیں اور حکومتیں اقتدار عمل اپنے ہاتھ میں لیں
اور ایک عظیم کام کا آغاز کریں ۔فلسطین کی مظلوم قوم کی مدد ، عراق کی
بیدار قوم کی حمایت ،لبنان ،شام اور علاقے کے دوسرے ملکوں کی آزادی اور
ثبات کی حفاظت سب کا فریضہ ہے ۔سیاسی دینی اور تہذیبی میدان کے اہم اور
بر گزیدہ افراد ،قومی شخصیات ،جوانوں اور دانشگاہوں سے متعلق افراد کا
فریضہ دوسروں سے کہیں زیادہ ہے ۔ اسلامی مذاہب کے پیروو ¿ںکے درمیان
اتحادو وابستگی اور فرقہ وارانہ نیزقومی اختلافات سے پرہیز ،برگزیدہ
شخصیتوں کا اہم ترین نعرہ ہونا چاہئے ۔علمی وسیاسی نشاط ،تہذیبی جد
وجہد اور ان اصلی صفوںمیں اپنی تمام طاقتوں کو یکجا کرنا ان کا اولین
اور سب سے اہم کام ہونا چاہئے۔
اسلامی دنیا ،جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے مغرب کے غلط اور بار بار
کے ٹوٹے پھوٹے فارمولے کی محتاج نہیں ہے ۔ جمہوریت اور عوامی حاکمیت ،اسلامی
تعلیمات کا رکن اور انسانی حقوق ،اسلام کے اہم ترین ارشادات میں سے ہے
۔ علم جہاں سے بھی اور جس کے پاس بھی ہو حاصل کرنا چاہئے ،لیکن دنیائے
اسلام ہمت کرے کہ ہمیشہ شاگرد نہ رہے بلکہ ایجاد وابتکاراور علم کی
تخلیق کے لئے اپنی استعدادوں اور ہمت سے کام لے۔
مغرب کی قدریں جو ان کے ممالک میں اخلاقی انحطاط ، شہوت بازیوں کے
رواج،ہمجنس بازی کی قانونی ہونے اور دیگرفضیحتوں و رسوائیوں کا باعث
ہوئی ہیں تقلید کے قابل نہیں ہیں ۔ اسلام اپنی گرانقدر ارزشوں کے ذریعہ
انسانوں کی فلاح وکامیابی کا سب سے اعلیٰ منبع ہے ان اعلیٰ قدروں کو
بیان کرنے اور رائج کرنے کا فریضہ قوموں کے مشہور اور برگزیدہ افراد کے
کاندھوں پر ہے ۔
یہ اندھی اور وحشیانہ دہشت گردی جو عراق پر قبضہ جمانے والوں کے ہاتھوں
میں اسلام اور مسلمانوں پر حملہ کرنے اور اس اسلامی ملک پر اپنے فوجی
غلبہ کوباقی رکھنے کا ایک بہانہ ہے ،اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں
قابل مذمت ہے ۔ان ظالمانہ حادثات کے سب سے پہلے ملزم امریکی فوجی
نیزامریکہ اور اسرائیل کے جاسوسی ادارے ہیںکہ عراق میں حکومت کی تشکیل
کے مرحلہ کو متاثر کرناان کاسب سے اہم اور خباثت آمیز مقصد شمار ہوتاہے
۔
مسلمان بھائیو اور بہنو!
اسلامی امت کے تمام اہم مقاصد کے حصول کی ضمانت خداوند عالم کی ذات
پربھروسہ ،قرآن کریم کے حتمی وعدہ پراعتماد اور اسلامی اتحاد کو مضبوط
بنانے میں ہے ۔ اپنے کارساز نیزذکر الٰہی سے مالامال حج کے فریضہ اور
مناسک حج میں مسلمانوں کا یہ زبردست اور عظیم اجتماع اس وسیع وہمہ گیر
تحریک کا نقطہ آغاز ہوسکتاہے۔
میں خدا کی بارگاہ میں آپ تمام حجاج کرام کی توفیق اور حضرت ولی اللہ
الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تمام مسلمانوں کے لئے دعائے خیر
کا آرزومند ہوں ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ
سید علی خامنہ ای |
|